1

’’ایک اور چائے والے کے بیٹے نے پاکستان کا نام روشن کر دیا‘‘ زاہد عالم کن بہترین 35 لوگوں میں شامل ہو گئے؟ جان کر فخر محسوس کریں‌گے

’’ایک اور چائے والے کے بیٹے نے پاکستان کا نام روشن کر دیا‘‘ زاہد عالم کن بہترین 35 لوگوں میں شامل ہو گئے؟ جان کر فخر محسوس کریں‌گے

لاہور ( پرائم نیوز) پچھلے دنوں اسلام آباد کا خوبرو چائے والا میڈیا کی زینت بنا رہا لیکن حال ہی میں ایک اور ’’چائے والے کا بیٹا‘‘ بھی منظر عام پر آ گیا ہے. جسے پاکستان کی انڈر 19 ٹیم میں شامل کر لیا گیا ہے. پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اے سی سی یوتھ ایشیا کپ کیلئے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا، جس میں زاہد عالم کا نام بھی شامل ہے جو ایک چائے والے کا بیٹا ہے. لاہور بوائز ہائی سکول سیکنڈری اسکول لکشمی سنگھ میں دسویں جماعت کے طالبعلم زاہد عالم نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق انتہائی غریب گھرانے سے ہے اور ان کے والد چائے فروخت کرتے ہیں. کرکٹ کو اپنی زندگی سمجھنے والے زاہد لاہور ریجن سے بحیثیت آل راؤنڈر کھیلتے ہیں جن کا ابتدائی طور پر 35 بہترین کھلاڑیوں میں نام آیا.

انہوں نے بتایا کہ ٹرائلز کے بعد کھلاڑیوں کی تعداد میں کمی لا کر 24 کر دی گئی ہے جس کے بعد حتمی 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا گیا جس میں ان کا نام بھی شامل ہے. نوجوان کرکٹر نے دعویٰ کیا کہ وہ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں مہارت رکھتے ہیں اور انڈر19 ٹیم میں اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت جلد ہی قومی ٹیم کا حصہ بن جائیں گے. ایشیاء کپ 13 سے 14 دسمبر تک سری لنکا میں کھیلا جائے گا جہاں قومی انڈر 19 اپنا پہلا میچ میزبان کے خلاف کھیلے گی.

زاہد نے بتایا کہ ان کی قومی ٹیم میں سلیکشن اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ غربت کے مارے لوگ بھی ہر پلیٹ فارم پر عمدہ کارکردگی دکھا سکتے ہیں بس انھیں مواقع ملنے چاہیئں. نوجوان کرکٹر کے والد عالم خان کا کہنا ہے کہ ان کیلئے یہ ناقابل یقین بات ہے کہ ان کے بیٹے کا قومی ٹیم میں انتخاب ہو گیا ہے. خیبر پختونخواہ کے پسماندہ ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے عالم کا کہنا ہے کہ یہ ان کے بیٹے کی سخت محنت اور اساتذہ کی بھرپور کوششوں ہی کی بدولت ہوا ہے کہ آج میرا بیٹا انڈر 19 ٹیم میں شامل ہو گیا ہے.

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی غریب گھرانے یا پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے انڈر 19 یا قومی ٹیم میں شمولیت اختیار کی. اس سے پہلے 2006 انڈر 19 ورلڈ کپ کے ہیرو انور علی بھی ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور گارمنٹس فیکٹری میں 150 روپے یومیہ اجرت پر جرابوں پر استری کرنے کا کام کرتے تھے. اس کے علاوہ بورے والا کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے طویل القامت محمد عرفان بھی کرکٹ میں آنے سے پہلے جمال پائپ فیکٹری میں 10 ہزار روپے ماہانہ پر تقریباً ایک سال تک کام کرتے رہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں