1

دولے شاہ کے چوہے اصل میں کون لوگ ہیں؟ کیا ان کے پاس روحانی طاقتیں موجود ہیں؟ دولے شاہ کے چوہوں سے متعلق کچھ ماروائی باتیں.. حقیقت کیا ہے؟

دولے شاہ کے چوہے اصل میں کون لوگ ہیں؟ کیا ان کے پاس روحانی طاقتیں موجود ہیں؟ دولے شاہ کے چوہوں سے متعلق کچھ ماروائی باتیں.. حقیقت کیا ہے؟

اسلام آباد ( پرائم نیوز) یہ دنیا ایسے ایسے پر اسرار رازوں کی حامل ہے کہ کئی واقعات نظر کے سامنے آنے پر بھی عقل میں نہیں آتے. کئی واقعات بس باتیں ہی باتیں لگتی ہیں. فہم ادراک سے بالاتر کئی رازوں میں سے ایک راز شاہ دولےشاہ کے چوہے بھی ہیں جن سے جڑی ماروائی اور ان کی تخلیق کے بارے میں باتیں لوگوں کیلئے حیرت انگیز ہیں. روایات کے مطابق حضرت شاہ دولہ دریائی نہ صرف روحانی پیشوا تھے بلکہ وہ رفاہ عامہ کے بھی بڑے دلدار تھے .اگر انہیں اپنے زمانے کا ایک معروف سماجی کارکن کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا. مغل بادشاہ اور گجرات میں ان کے نمائندے ان سے بڑا قلبی لگاؤ رکھتے تھے اور ان کے کئی طرح کے وظائف مقرر کیے ہوئے تھے. یہ وظائف شاہ دولہ رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کر دیتے تھے. انہوں نے شہر میں نہ صرف نالیاں تعمیر کروائی بلکہ اہم گزر گاہوں میں آنے والے نالوں پر پل بھی تعمیر کروائے. جگہ جگہ مسجدیں اور مسافروں کیلئے سرائے بنوائیں. انھوں نے اس علاقے میں بے سہارا اور مفلوک الحال بچوں کی پرورش اور نگہداشت کیلئے ادارے قائم کرنے کی بنیاد رکھی اور کئی یتیم خانوں کی طرز عمارتیں بنوائی. انہی سراؤں میں ایسے چھوٹے سر والے بچوں کی بھی پرورش کی جاتی تھی جنہیں بعد میں شاہ دولہ کے چوہے کہا جانے لگا.

حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جہاں دور دراز سے معتقدین اپنی منتوں و مرادوں کے پورا ہونے کی آس لے کر آتے ہیں. وہاں ایسی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو اولاد کی نعمت سے محروم ہوتی ہیں. اس کے علاقہ بہت سے خاندان اپنے چھوٹے بچوں کو نظر بد سے بچائے رکھنے کیلئے یا کوئی پیدائش نقص کو دور کرنے کی دعا کرنےکیلئے آتے ہیں.

مزار سے منسوب روایتیں اگرچہ گجرات شہر میں تو اتنی مقبول نہیں کہ جتنی یہ ملک کے دوسرے شہروں میں ہیں. کہا جاتا ہے کہ جو بے اولاد مرد یا عورت حضرت شاہ دولہ کے مزار پر جا کر اولاد کی منت مانگتی ہے تو اسکے ہاں پیدا ہونے والے پہلی اولاد ایب نارمل ہوتی ہے یعنی اسکا سر چھوٹا ہوتا ہے. اس کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اوروہ بے زبان ہوتے ہیں. اور منت کے نتیجے میں پیدا ہونےوالے بچے کو مزار پر چھوڑنا پڑتا ہے. ایسے بچوں کا سر چھوٹا اور چہرہ بڑا ہوتا ہے. جبکہ بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ جو لوگ ایسے بچوں کو درگاہ کے نام پر وقف نہیں کرتے یا مزار چھوڑ کر نہیں جاتے اور ان کے ہاں پھر ایسے ہی چوہے پیدا ہوتے ہیں تاہم گجرات اور آس پاس کے لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ شاہ دولہ کے چوہے اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں اورانکی دعا ہر حال میں قبول ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی شاہ دولہ کا چوہا لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہےتو ہر شخص حسب توفیق انہیں ضرور دیتا ہے اور انھیں خالی ہاتھ جانے نہیں دیتے.

کچھ لوگ اگرچہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچے مزار پر دیے جاتے ہیں انہیں کمسنی میں ہی آہنی ٹوپیاں پہنا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر چھوٹے رہ جاتے ہیں. جو بالکل غلط بات ہے اور اس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں