1

سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کس نئی سیاسی جماعت کے ساتھ میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا؟

سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے کس نئی سیاسی جماعت کے ساتھ میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا؟

اسلام آباد ( پرائم نیوز) سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ حافظ سعید پر پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے، متحدہ قومی موومنٹ نہیں مہاجروں کے ساتھ ہمدردی ہے ان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ تیسری قیادت ملک کیلئے ضروری ہے مگر عمران خان کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھ رہا، آصف علی زرداری اور نواز شریف پنگ پانگ کھیل رہے ہیں، بال کبھی ادھر کبھی ادھر ہو رہی ہے. 2018ء کے الیکشن کیلئے سب کو ساتھ ملا کر تیسری قوت بنانے کی کوشش کروں گا متحدہ کے (را) کے ساتھ روابط کا علم نہیں. باہر بیٹھ کر پارٹی نہیں چلا سکتا، پاکستان آکر اپنی پارٹی کو فرنٹ سے لیڈ کروں گا توبات بنے گی، گولی کھانی ہے تو سامنے آنا پڑے گا، ملک میں عدالتیں حکومت کے زیر اثر ہیں، نواز شریف کو پانامہ لیکس میں نا اہل ہونا چاہتے ہیں، راحیل شریف کو مدت ملازمت توسیع ملنی چاہیئے اور اگر توسیع ملے تو راحیل شریف کو قبول کرنی چاہیئے. وہ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویوی دے رہے تھے.

ان کا کہنا ہے کہ مجھے مہاجروں کےساتھ ہمدردی ہے ان کیلئے کچھ کرنا چاہتا ہوں، ایم کیو ایم کیلئے تیسری قوت کے طور پر ابھرتے ہوئے دیکھا مگر کامیاب ہوتے نہیں دیکھ رہا. آصف علی زرداری اور نواز شریف پنگ پانگ کھیل رہے ہیں. بال کبھی ادر اور کبھی ادھر جا رہی ہے. انہوں نے کہا کہ بہتری کیلئے ملک کو پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے کلچر سے نکالنا ہو گا. سابق صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیسری سیاسی قوت بنانا چاہتا ہوں، 2018ء میں ایک نئی سیاسی جماعت کے ساتھ آؤں‌ گا اور 2018ء کے الیکشن میں بھر پورحصہ لوں گا. ان کا کہنا ہے کہ بھارت ہماری مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے تو وہ غلطی پر ہے. حافظ سعید پر پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے. پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان رہا ہوں ایک لسانی پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہوں. کسی علاقائی پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا. متحدہ اور پی ایس پی رہنماؤں سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی.

اپنا تبصرہ بھیجیں