1

گزشتہ روز لاہور سمیت پنجاب بھر میں چھایا ہوا سموگ درحقیقت کیا چیز ہے؟ اصل وجہ اب سامنے آئی… ماہرین نے لوگوں کو انتیاہ کر دیا

گزشتہ روز لاہور سمیت پنجاب بھر میں چھایا ہوا سموگ درحقیقت کیا چیز ہے؟ اصل وجہ اب سامنے آئی… ماہرین نے لوگوں کو انتیاہ کر دیا

لاہور ( پرائم نیوز) پچھلے دنوں سے پنجاب میں لاہور سمیت وسطی اور جنوبی اضلاع میں سموگ کے باعث فضائی آلودگی عروج پر ہے. محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی آلودگی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ کھیتوں میں موجود فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کا عمل سموگ پیدا کرنے کی وجہ بن رہا ہے. حالیہ خشک اور سرد موسم میں سموگ کی موجودگی کے باعث انسانی بیماریوں کے علاوہ ٹریفک حادثات بھی دیکھنے کو ملے ہیں. دھان کی کمبائن ہارویسٹر سے برداشت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم وقت میں کم خرچ سے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 2000 روپے کی بچت ہو جاتی ہے لیکن کمبائن چلانے کے بعد کاشکار پرالی اور مڈھوں کو آگ لگا دیتے ہیں جس کے باعث ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہو جاتا ہے. فصل کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی کے علاوہ زمین میں نامیاتی مادہ میں بھی کمی ہو جاتی ہے اور خوردبینی جرثومے ہلاک ہو جاتے ہیں.

محکمہ موسمیات کے ترجمان نے دھان کے کاشتکاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ دھان کی کٹائی اور گہائی کے بعد پرالی اور مڈھوں کو ڈسک ہیرو کے ذریعے زمین میں ملائیں. ڈسک ہیرو کے استعمال سے دھان کی باقیات کے علاوہ جڑی بوٹیاں اور غیر ضروری سبز مادہ نامیاتی کھادوں میں تبدیل ہو کاتے ہیں اور زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے. ڈسک ہیرو کے استعمال سے زمین کے اندر روشنی اور ہوا کا گزر باآسانی ہو جاتا ہے اور خورد بینی جرثومے تیزی سے افزائش کرتے ہیں. زیادہ نامیاتی مادہ کی حامل زمینوں میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جاتا ہے جو پانی میں فراہمی کی کمی کے باوجود بھی پودوں کو نمی پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے. مستقبل میں سموگ جیسی صورتحال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ درخت لگائے جائیں. درختوں کی کانٹ چھانٹ سے ہر ممکن حد تک پرہیز کیا جائے. فضائی آلودگی پر کمی پائی جائے. کھیتوں میں مشینری کا غیر ضروری استعمال ختم کیا جائے. فصلوں کی برداشت کے بعد پودوں کی باقیات کو آگ لگانے سے گریز کیا جائے اور دھواں پیدا کرنے والی غیر ضروری چیزوں سے دور رہاجائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں