1

انسانی گوشت کھانے والا پولیس اہلکار…حیرت انگیز انکشافات… عدالت بھی حرکت میں آ گئی

انسانی گوشت کھانے والا پولیس اہلکار…حیرت انگیز انکشافات… عدالت بھی حرکت میں آ گئی

برلن ( پرائم نیوز) جرمنی میں آدم خور کیلئے قتل کے ایک مقدمے میں ایک سابق پولیس اہلکار کے خلاف عدالتی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے. ملزم نے آدم خوری کے حامی ایک پولیس کو اس کی خواہش پر قتل کیا تھا لیکن اس کے جسم کا کوئی حصہ کھایا نہیں‌ تھا. تفصیلات کے مطابق اس 58 سالہ ملزم کا نام ڈیٹلیف گیوئنسل ہے اور اس کے خلاف اسی الزام میں چلائے جانے والے پچھلے ایک مقدمے میں جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن کی ایک علاقائی عدالت نے پچھلے سال اسے ساڑھےآٹھ سال کی قید سنائی تھی.

2015ء میں ڈریسڈن کی اس عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ ملزم کیوئنسل 2013ء میں ایک پولستانی نڑاد شخص ووئسیئچ سٹیمپنی وک کے اس کی رضا مندی سے قتل کا مرتکب ہوا تھا. تب عدالت میں پیش کردہ شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی تھی کہ سابق پولیس اہلکار گیوئسنل کا پولستانی نڑاس مقتول سے تعارف ایک ایسی ویب سائٹ کے ذریعے ہوا تھا، جہاں فاعل یا مفعول کے طور پر آدم خوری کو جنون کی حد تک پسند کرنے والے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے. ملزم کو سنائی جانے والی ساڑھے آٹھ سال کی سزائے قید کے خلاف اس کی طرف سے ایک ایپل وفاقی عدالت انصاف میں دائر کی گئی تھی، جس پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اسے سنائی گئی سزا یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دی تھی کہ گیوئنسل کے خلاف ڈریسڈن کی علاقائی عدالت اس سے متعلق کافی اور تسلی بخش حد تک چھان بین کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تھی کہ آیا واقعی اس ملزم نے مقتول کو گلا دبا کر قتل کیا تھا، جیسا کہ خود ملزم نے اعتراف بھی کر لیا تھا. وفاقی عدالت انصاف نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ قتل کے کسی مقدمے میں ملزم گیوئنسل کو سنائی جانے والی ساڑھے آٹھ سال کی سزائے قید بہت کم تھی اور اس لیے بھی اس ملزم کے خلاف اس کے سزا یافتہ ہونے کے باوجود مقدمے کی سماعت نئے سرے سے کی جائے. اس پس منظر میں ملزم کے خلاف دوبارہ عدالتی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس کی تکمیل پر نئے سرے سے ججوں کا فیصلہ اگلے سال جنوری تک کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں