1

2 نومبر دھرنا.. حکومت نئی مشکل میں پھنس گئی.. عالمی تنظیم بھی میدان میں کود پڑی

2 نومبر دھرنا.. حکومت نئی مشکل میں پھنس گئی.. عالمی تنظیم بھی میدان میں کود پڑی

اسلام‌آباد ( پرائم نیوز) 2 نومبر اسلام آباد کا دھرنا اس وقت زوروشور سے جاری ہے. پکڑ دھکڑ اور دھاڑ کا سلسلہ بھی عروج پر ہے. جس کے بعد عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے حراست میں لیے گئے درجنوں کارکنان کو بغیر کسی شرط کے فوری رہا کیا جائے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کی نقل و حمل میں رکاوٹوں کو ہٹایا جائے اور لوگوں کو پر امن جلسے کی اجازت دی جائے. تنظیم کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی طرف سے 2 نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہے. اس اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے ہیں اور اس کے علاوہ پشاور اور اسلام آباد موٹروے کو بھی بند کر دیا گیا ہے.

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کرہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو مصدقہ رپورٹس ملی ہیں کہ سیکشن 144 کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے. اس کریک ڈاؤن کا کوئی جواز نہیں ہے. آئین پاکستان عوام کو جلسے ، اظہار اور نقل و حمل کی اجازت دیتا ہے. انتظامیہ بغیر کسی شرط کے فوری طور پر حراست میں لیے افراد کو رہا کرے، چمپا پٹیل نے بیان میں کہا ہے کہ سیکشن 144 نو آبادیاتی زمانے کا ظالمانہ قانون ہے اور یہ بات واضح رہے کہ ایسے قانون کی پاسداری کرنے والے کیلئے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں. اس قانون کو لوگوں کے پر امن جلسے سے روکنے کیلئے کبھی نہیں استعمال کرنا چاہیئے اور اس قانون کو ختم کرنے کی ضرورت ہے. بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ہنگامے ہوتے ہیں تو حکومت کو ہنگامے کرنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیئے. کچھ افراد کی وجہ سے حق کو پامال کرنا حکومت پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں