1

تحریک انصاف کے کارکنان کی گرفتاریاں.. ایسی پارٹی پی ٹی آئی کی حمایت میں میدان میں اتر آئی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

تحریک انصاف کے کارکنان کی گرفتاریاں.. ایسی پارٹی پی ٹی آئی کی حمایت میں میدان میں اتر آئی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

کراچی (پرائم نیوز) مسلم لیگ نواز شریف کی طرف سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے نہتے سیاسی کارکنوں اور خواتین کے بہیمانہ تشدد کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ورکز کے کارکن (آج) ہفتہ کی شام 4 بجے کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کریں گے. مظاہرے کی قیادت پیپلز پارٹی کی رہنما ناہید خان اور پی پی پی ورکرز کے مرکزی صدر ڈاکٹر صفدر عباسی کریں گے.

پی پی پی رہنما ناہید خان نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیاسی کارکنوں پر ریاستی تشدد کے پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف ملک کو تیزی سے انار کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ملک میں خانہ جنگی ہو جائے. ان کا مزید کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے اور نواز شریف بوکھلاہٹ میں اسلام آباد کا لاک ڈاؤن خود ہی کر رہا ہے.

پی پی پی رہنما ناہید خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے بنی گالہ اور لال حویلی پر جس طرح چڑھائی کی ہے اس سے ان کا اصل چہرہ سب کے سامنے آ گیا ہے. نواز شریف نے استعفیٰ نہ دیا اور خود کو احتساب کیلئے پیش نہ کیا تو جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے. پی پی پی رہنما نے بنی گالہ اور لال حویلی کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کرنے اور تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کے کارکنوں پر پولیس کے ظلم و ستم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکرز اب میدان عمل میں تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں.

ناہید خان نے میڈیا کے نام پیغام میں کہا ہے کہ جمعہ کے دن پریس کلب میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے کھل کر بات کرنا چاہتی تھی لیکن کراچی پریس کلب میں بکنگ نہ ملنے پر بات نہ ہو سکی. ہفتہ کو پریس کلب کے باہر میڈیا سے بات ہو گی. پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے مرکزی صدر ڈاکٹر صفدر عباسی نے فوج کے خلاف پلانٹڈ خبر نے سیاسی حکومت اور افواج پاکستان کے مابین تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے.

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ورکز اسلام‌آباد میں سیاسی کارکنوں خصوصاً گرفتاری اور ان پر تشدد کی نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے بات چیت کے بعد ہم نے باقاعدہ احتجاجی شمولیت کا فیصلہ کیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں