0

سکیورٹی سخت ہونے کے باوجود مسلح افراد کا مزار پر حملہ… دردناک ہلاکتیں اور متعدد افراد زخمی

سکیورٹی سخت ہونے کے باوجود مسلح افراد کا مزار پر حملہ… دردناک ہلاکتیں اور متعدد افراد زخمی

کابل ( پرائم نیوز) افغانستان کے دارلحکومت کابل میں فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد اور خود کش حملہ آروں نے کابل میں سب سے بڑے کرتائے سخی مزار پر حملہ کیا جس سے کئی زائرین کو یرغمال بنا لیا جبکہ اس میں 14 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے، لعشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے.

منگل کو غیر ملکی خبر رساں ادارے اور افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صادق صدیقی کا کہنا ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد اور خود حملہ کش آوروں نے اہل تشیع کے کرتائے سخی مزار میں حملہ کر دیا جہاں عاشورہ محرم کے موقع پر بڑی تعداد میں زائرین اکٹھے تھے. اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا. میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ میں 14 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے جبکہ وزارت صحت کے ترجمان اسماعیل خواصی نے 18 زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی تصدیق کی ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی دیر تک مزار میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں. ہلاکتوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے. دوسری جانب سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ طالبان سے قندوز شہر کا قبضہ واپس لے لیا گیا ہے. علاوہ ازیں کابل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 3 ملزمان سمیت 4 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں