1

جب حضرت امام حسین ؑ حضرت محمد ﷺ کے کندھوں پرسوار ہوئے تو آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے کیا فرمایا؟ ایمان افروز واقعہ

جب حضرت امام حسین ؑ حضرت محمد ﷺ کے کندھوں پرسوار ہوئے تو آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے کیا فرمایا؟ ایمان افروز واقعہ

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے شہزادے حضرت امام حسین ؑ کی شہادت کا واقعہ یقیناً ایسا ہی دردناک ہے مگر جس قدر صبر کی تلقین ہمیں دنیا کے اس عظیم سانحہ سے ملتی ہے وہ بے مثال ہے. حضرت امام حسین ؑ کی ولادت ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان کو ہوئی. فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر ننھے دلارے کی خبر سن کر ہادی برحق رسول پاک ﷺعلی المرتضی رضی اللہ تعالہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور اپنے لعل کو گود میں لے ان کے داہنے کان میں اذان ار بائیں کان میں اقامت کہہ کر اپنی زبان مبارک ان کے منہ میں دی اور یوں نبیوں کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب دہن ننھے حسین علیہ السلام کی گھٹی بنا. آپ کا عقیقہ پیدائش کے ساتویں دن کیا گیا.

حضرت امام حسین علیہ السلام کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی کہ سن کر ہی رشک آتا ہے. خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، شیر خدا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ، جگر گوشہ رسول ﷺ سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے اساتدہ تھے. ایک طرف پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری جانب حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے، تیسری جانب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کیلئے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں، ایسےخوبصورت اور نورانی ماحول میں حضرت امام حسین ؑ کی پرورش ہوئی. بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بے حد محبت رکھتے تھے. نانا کے لاڈ اور پیار سے پلے حضرت امام حسین ؑ اپنے نانا کے کاندھوں پر سوار ہو جاتے، کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین ؑ کو سینہ پر سوار کرتے کبھی ایسا بھی ہوتا کہ حسین علیہ السلام نماز کی حالت میں اپنے نانا کے کندھوں پر سوار ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے اپنا سجدہ لمبا کر لیتے. ایک بار جب حسین علیہ السلام نماز میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے پر سوار ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ طویل کر دیا، تو نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ دیکھو یہ حسین ہے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو.

اپنا تبصرہ بھیجیں