غیرت کے نام پر قتل اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندوں کیلئے سخت سزا کا اعلان کر دیا گیا

غیرت کے نام پر قتل اور زیادتی کا نشانہ بنانے والے درندوں کیلئے سخت سزا کا اعلان کر دیا گیا

لاہور ( پرائم نیوز) پاکستان میں عورتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے واقعات بڑی تعداد میں دیکھنے کو مل رہے ہیں. پچھلے دنوں پارلیمنٹ اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل کرنے کیلئے سخت سزا کی منظوری دے دی گئی ہے.

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بارے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات ناقابل قبول ہوں گے اور بل کے تحت مجرم قرار دے جانے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنائی جائے گی جس میں کمی پیشی کا تصور بھی نہیں ہوگا. یہ منظور ہونے والا بل پچھلے ڈھائی سالوں سے التوا کا شکار تھا. حزب مخالفت کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اس بل میں دی گئی سزاؤں کے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ جو بل سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا اس میں ان جرائم کی سزائے موت تجویز کی گئی تھی جس پر وفاقی وزیر قانون زاہد حماد نے کہا تھا کہ مجرم کو 25 سال سے کم سزا نہیں ہو سکے گی.

اجلاس کے وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل میں قصاص کا حق برقرار رکھا جائے گا، تاہم قصاص کے حق کے باوجود عمر قید کی سزا ہو گی اور غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں اب پہلے کی طرح صلح نہیں ہو سکے گی. انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران 1 ہزار 96 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا، جبکہ 2014 میں‌یہ تعداد 1 ہزار اور 2013 میں‌ میں 869 تھی.

خیال رہے کہ جمعرات 6 اکتوبر کو پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس میں یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کیے. بعض قانونی ماہرین کی رائے میں یہ قانون ملک میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں‌کمی لانے کے سلسلے میں انتہائی موثر ثابت ہوں گے.

loading...

اپنا تبصرہ بھیجیں