1

بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ، کھل کر پاکستان دشمنی پر اتر آیا، اصلی چہرہ بے نقاب

بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ، کھل کر پاکستان دشمنی پر اتر آیا، اصلی چہرہ بے نقاب

واشنگٹن ( پرائم نیوز) دوستی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا ہے. پاکستان کو دہشت گرد ریاست کیلئے کانگریس میں بل پیش کر دیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق امریکہ ایک طرف تو پاکستان کے ساتھ دوستی کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کیلئے قانون سازی کررہا ہے. امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی قرار داد میں امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو ایک دہشتگرد ریاست قرار دیا جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے.

پاکستان سے دوستی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ نے بھارت کے مطالبہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکی کانگریس نے اپنے ایک اہم اتحادی کے خلاف ہی بل پیش کر دیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کس قدر تیزی سے خراب ہو رہے ہیں. کانگریس میں پیش کیا جانے والا یہ بل HR 6069 پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرتا ہے. بل پاس پونے کے بعد کانگریس کیطرف سے امریکی انتظامیہ کو نوٹس کال کی جائے گی. جس کے بعد امریکی صدر کو 90 دنوں کے دوران ایک رپورٹ دینا ہو گی کہ آیا پاکستان دہشتگردوں کو سپورٹ کرتا ہے یا نہیں.

کانگریس میں پیش کیا جانے والا یہ بل بھارتی لابی کے معروف رکن کانگریس ٹیڈپو اور ڈانا روہبارچر کی طرف سے پیش کیا گیا ہے. ان ممبران کا نگریس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک قابل اعتماد اتحادی ثابت نہیں ہوا. ٹیڈیو نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں اور جہادیوں کو امداد اور سہولت مہیا کرنے کے نتیجے میں ہی اڑی جیسا حملہ ہوتا ہے. اس سلسلے میں پاکستان کا غیر ذمہ دار رویہ ہمسائیہ ملک کیلئے خطرے کا باعث ہے اور بھارت اس کا ایک سے زائد نشانہ بن چکا ہے.

خیال رہے کہ پاکستان 20 سالوں میں پاکستان کے خلاف دہشت گرد ریاست قرار دیے جانے کی یہ پہلی قرار داد ہے جو امریکی کانگریس میں پیش کی گئی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ بات چیت کی جا رہی ہے جبکہ اس سے پہلے ممبئی کے حملے کے بعد بھی مطالبہ کیا گیا تھا مگر ایسی کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی تھی.

اپنا تبصرہ بھیجیں