1

کینسر کا آسان ترین علاج وہ بھی انتہائی سستی سبزی میں.. تحقیق

کینسر کا آسان ترین علاج وہ بھی انتہائی سستی سبزی میں.. تحقیق

فیصل آباد ( پرائم نیوز) زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کی کاشتکار جدید پیداواری عوامل اپنا کر نہ صرف عوام کو سستی گاجر فراہم کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ بھی کرسکتے ہیں. انہوں نے کہا ہے کہ گاجر کا آبائی وطن افغانستان ہے اب یہ پوری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے اس کا سلاد، اچار اور حلوہ مقبول عام ہے، یہ پیٹ کے کیٹروں کیلئے بھی زہرقاتل ہے اور پیشاب آور ہونے کی وجہ سے یورک ایسڈ کی زیادتی اور استقاء کا بھی علاج ہے.

طبی ماہرین کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے یہ بات واضح کی ہے کہ گاجر کینسرکی گلٹیاں بننے کا عمل روک دیتی ہے. بیج کے اگاؤ کیلئے 7 تا 24 ڈگری سینٹی گریڈ مثالی درجہ حرارت ہے. اسی طرح 20 تا 25 ڈگری گریڈ زیادہ سے زیادہ پیداوار اور اچھی گاجر لینے کیلئے انتہائی مناسب ہے. ان کا کہنا ہے کہ گاجر ہر قسم کی زمین میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے لیکن اچھی پیداوار کیلئے گہری زمین اور اگیتی پیداوار کیلئے ریتلی میرا درکار ہوتی ہے.

ماہرین نے بتایا ہے کہ پنجاب میں گاجر کی پچھیتی کاشت اکتوبر کے آخر تک جاری رہتی ہے جبکہ ستمبر کا دوسرا ہفتہ پنجاب میں اس کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہے نیز درآمد شدہ اقسام نومبر تا دسمبرتک کاشت ہوتی ہیں. ان کا مزید کہنا ہے کہ بوائی سے پہلے اگر بیج 12 گھنٹے پانی میں بھگو لیا جائے تو شرح اگاؤ میں اضافہ ممکن ہے تاہم اچھی قسم کا صحتمند اور زیادہ روئیدگی والا بیج جو جڑی بوٹیوں سے پاک و صاف ہوا استعمال کرنا چاہیئے.

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں