1

’’چھاپہ اظہار الحسن کی گرفتاری کیلئے مارا گیا، میرے ایکشن سے کوئی ناراض‌ہوتا ہے تو ہوتا رہے‘‘ راؤ انوار نے اہم بیان جاری کر دیا

چھاپہ اظہار الحسن کی گرفتاری کیلئے مارا گیا، میرے ایکشن سے کوئی ناراض‌ہوتا ہے تو ہوتا رہے‘‘ راؤ انوار نے اہم بیان جاری کر دیا

اسلام آباد ( پرائم نیوز) ایس پی ملیر راؤ کا کہنا ہے کہ نہ مجھے کسی ایجنسی نے کہا اور نہ کوئی ذاتی مقصد تھا، اظہار الحسن کے خلاف ایف آئی آر درج ہیں جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا، راؤ انوار کا کہنا ہے کہ مجھے جلد بازی میں معطل کیا گیا ہے اور یہ معطلی غیرقانونی ہے. تاہم خواجہ اظہارالحسن کسی کے حکم پر نہیں چھوٹ سکتے، انہیں صرف عدالت ہی رہا کرسکتی ہے اور جب تک عدالت حکم نہیں دے گی خواجہ اظہارالحسن کو نہیں چھوڑ اجائے گا وہ اب بھی پولیس کی گرفتاری میں ہیں.

راؤانوار کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار کو گرفتار کرنے کیلئے سپیکر کی کوئی اجازت نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ آئی جی سے مجھے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ روزانہ بیسیوں لوگ گرفتار ہوتے ہیں جن کے خلاف ایف آئی آر ہوتی ہے، اگر ہم چھوٹے آدمیوں کو پکڑتے رہیں اور بڑے آدمیوں کیلئے آئی جی سے اجازت لیں تو پھر شہرکا امن و امان قائم نہیں ہو سکتا.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ مجھے دنیا پہچانتی ہے. چھاپہ اظہارالحسن کی گرفتاری کیلئے مارا گیا تھا. میرے ایکشن میں کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے. ہمارے پولیس کے محکمے میں بہت زیادہ گروپنگ ہے، سارے افسران کو قانون کا علم ہے. انویسٹی گیشن کے بغیر خواجہ اظہارالحسن کو نہیں چھوڑا جائے گا. جب تک اینٹی ٹیررسٹ کورٹ کے جج آرڈز نہیں کریں گے ہم خواجہ اظہار الحسن کو رہا نہیں کریں گے. راؤانوار کا کہنا ہے کہ فاروق ستار کو بھی گرفتار ہونا چاہیئے، جس دن میری موت لکھی ہوئی میں مرجاؤں گا. جس طرح مجھے کام کرنے سے روکا جا رہا ہے میں اس محکمے کو چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں. انہوں نے کہا کہ یہاں پولیس افسروں کا ایسا گروپ حاوی ہے جو کسی کو کام نہیں کرنے دے رہا اور میرے کام میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں