2

بچوں کے اغواء میں ملوث گروہ گرفتار، اغواء کار بچوں کو کہاں لے جاتے اور کیا کرتے تھے؟ جان کر آپ کا خون کھول اٹھے گا

بچوں کے اغواء میں ملوث گروہ گرفتار، اغواء کار بچوں کو کہاں لے جاتے اور کیا کرتے تھے؟ جان کر آپ کا خون کھول اٹھے گا

کوئٹہ ( پرائم نیوز) فرنٹیئر کور بلوچستان نے بچوں کے اغواء میں ملوث گروہ کے کارندے اور 6 سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کے بعد مغوی بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے. اغواء کار گروہ بچوں کو اغواء کر کے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دیتے تھے ان خیالات کا اظہار فرنٹیئر کور بلوچستان چلتن سکاؤٹ کے کمانڈنٹ کرنل توصیف شہزاد نے ایف سی مددگار سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دنوں چاغی کے علاقے سے اغواء کاروں نے ایک 10 سالہ بچے سید بنی ولد محمد علی اغواء کیا تھا اور اسے افغانستان لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے ایک اغواء کار کو حراست میں لے کربچے کو بازیاب کرا لیا. گرفتار اغواء کار کی نشاندہی پر اس کے مزید 6 سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے. اغوائ کار گروہ بچوں کواغواء کرکے افغانستان بھجواتا تھا جہاں انہیں دہشت گردی میں استعمال کرنے کا اندیشہ ہےجہاں ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس گروہ کا قلع قمع کیا جائے گا اب تک اغواء کاروں نے 6 سے 7 بچے اغواء کیے تھے اور ان بچوں کو 5 لاکھ روپے کے عوض فروخت کرتے تھے. گرفتار ہونے والے اغواء کاروں میں مقامی اور افغانی شامل ہے. مزید اغواء ہونے والے بچوں کو جلد بازیاب کرا لیا جائے گا بچے کی بازیابی ہر ان کے والد محمد علی نے بتایا کہ ہم ایف سی کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے لخت جگر کو لوٹا دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں