1

بچوں کے اغواء کا سلسلہ، حکومت کچھ نہ کر سکی، فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ

بچوں کے اغواء کا سلسلہ، حکومت کچھ نہ کر سکی، فوج کو طلب کرنے کا فیصلہہ

لاہور ( پرائم نیوز) سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بچوں کے اغواء کے کیس بھی دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوج عدالتوں میں چلانے کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پنجاب بچوں کے اغواء کا گڑھ بن رہا ہے اور صوبے میں آئین قانون کی بجائے جرائم پیشہ کے لوگ اور زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں گورننس کا دعویٰ کرنے والے حکمران اب کہاں گئے؟ حکمرانوں کی نا اہلی اور ناکامیوں کی لمبی فہرست بھی جمہوریت کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے، حکمران زبانی جمع خرچ کی بجائے اغواء کے واقعات روکنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سخت اقدام اٹھائیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ میں حکمران مکمل ناکام ہو چکے ہیں.

پارٹی اراکین راجہ ریاض احمد، ڈاکٹر اسد معظم سمیت دیگر کی قیادت میں مختلف وفود سے بات چیت کےدوران سابق گورنر پنجاب چوہدری کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بچوں کے اغواء کے بعد ان کے اعضاء نکالنے کے معاملات سامنے آنے کے بعد والدین اپنے بچوں کو جتنا آج غیر محفوظ سمجھتے ہیں ماضی میں اتنا کبھی نہیں سمجھتے ہوں گے . آج پنجاب میں آئین اور قانون کی بجائے جرائم پیشہ لوگ خود کو مضبوط سمجھ رہے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ حکمران اپنی توجہ سیاسی مشہوری کے منصوبوں کی بجائے عوام سے کیے جانے والے وعدوں‌ اور انکے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے دیں ورنہ قوم کے صبرکا پیمانہ لبریز ہو جائے گا تو حکمرانوں کو بھاگنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی.

انہوں نے مزید کہا ہے کہ جو حکمران عوام کے جان ومال کی حفاظت کر سکتے ہیں ایسے حکمرانوں‌کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز موجود نہیں رہتا اور قوم ایسے بے حس حکمرانوں کو مزید برداشت نہیں کرے گی. حکمران جمہوریت کی مضبوطی اور حفاظت چاہتے ہیں تو ان کو حکمرانی کا انداز بہتر کرنا ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں