2

بچوں کے اغواء کا سلسلہ عروج پر، ہسپتال کا عملہ والدین کو بچے کس حالت میں دیتے ہیں؟ جان کر ہر آنکھ اشک بارہو جائے

بچوں کے اغواء کا سلسلہ عروج پر، ہسپتال کا عملہ والدین کو بچے کس حالت میں دیتے ہیں؟ جان کر ہر آنکھ اشک بارہو جائے

پشاور ( پرائم نیوز) پشاور میں لیڈی ڈاکٹراور سٹاف نرس بچوں کی اغواء کار نکلیں. پولیس نے بچوں کےاغواءکار گروہ کو گرفتار کر لیا ہے. پولیس کا کہنا ہے کہ گروہ میں اسٹاف نرس، مختلف میٹرنٹی ہومزکی لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں. اغواء کار گروپ کی طرف سے نومولود بچوں کو 3 لاکھ روپےمیں فروخت کرتے تھے.ایس ایس پی نے کہا ہے کہ اغواکار گروپ اب تک 9 بچوں کو فروخت کر چکے ہیں جن میں ایک گیارہ سالہ لڑکی کوبازیاب کرا لیا گیا ہے.

ذرائع کا کہناہے کہ گروہ کی سرغنہ وجیہہ نامی نرس کو بھی حراست میں لے گیا ہے جو سرکاری ہسپتال میں کام کرتی تھی جبکہ دیگر ارکان بھی پولیس کی گرفتاری میں ہیں جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں. گروہ ہسپتال انتظامیہ کی مدد سے زندہ کی بجائے، مردہ بچے بھی والدین کے حوالے کرتے اور زندہ بچے 70 ہزار سے 3 لاکھ تک فروخت کرتے رہے. مزید ارکان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں. ملزمان سے ایک بچی بھی برآمد ہوئی ہے.

نجی ٹی وی کے مطابق پشارو میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے بچوں کو اغواء کرنے والا گروہ گرفتار کر لیا ہے. گروہ کے ارکان ایک بچے کو اغواء کرنے کے بعد 3 لاکھ روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں موقع پر پکڑ لیا گیا. گروہ میں لیڈی ڈاکٹرز اورنرسوں سمیت 5 خواتین اور 2مرد شامل ہیں.

ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہےکہ بچوں کو اغواء کرنے والے اس گروہ میں 4 خواتین، ایل ایچ او اور نرس شامل ہیں، گروہ کے ارکان لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومز سے نومولود اور شیر خوار بچے اٹھاتے تھے اور اس کام میں انہیں ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کی بھی کافی مدد درکار تھی. انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اب تک 9 بچے فروخت کر چکے ہیں تاہم گزشتہ روز بچے فروخت کرتے وقت گروہ کےارکان کو گرفتار کیا گیا ہے اور بچے بازیاب کراکے والدین کے حوالے کر دیےگئےہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں