8

خلا میں سیارے کی سمت تبدیل، مستقبل میں یہ سیارہ زمین کیلئے کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟ ماہرین کی خوفناک تحقیق

خلا میں سیارے کی سمت تبدیل، مستقبل میں یہ سیارہ زمین کیلئے کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟ ماہرین کی خوفناک تحقیق

واشنگٹن ( پرائم نیوز) خلائی تحقیق کا امریکی ادارہ ناسا ممکنہ طور پرزمین کی طرف رخ کر لینے والے ایک سیاچے کا مطالعہ کرنے کیلئے خلائی مشن 8 ستمبرکو روانہ کرے گا. اوسیرس ایکس نامی یہ خلائی مشن بنو نام کے سیاچے سے سیمپل لے کر 7 سال بعد ستمبر 2023ء میں زمین پرواپس پہنچے گا. جس کے بعد اس سیارچے کی ساخت کا مطالعہ کیا جائے گا.

ناسا حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے قریب سورج کے گرد گردش کرنے والے اس سیارچے کے متعلق حال ہی میں ایک انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس نے کسی نا معلوم وجہ کے تحت مدار بدلا تھا جس کے باعث زمین کی کشش ثقل اسے اپنی طرف کھینچ سکتی ہے اور اگرچہ اس کا امکان 2700 میں ایک ہے لیکن یہ ڈیرھ صدی بعد یعنی 2135 میں زمین کے ساتھ ٹکراسکتا ہے ایسی صورت میں زمین بڑے پیمانے پر تباہی کا شکار ہو سکتی ہے.

ناسا حکام نے مزید بتایا ہے کہ اوسیرس ایکس اٹلس V411 نامی راکٹ کے ذریعے 34 دن کے سفر کے بعد سورج کے گرد اپنے مدار میں پہنچے گا. ایک سال تک سورج کے گرد مدار میں گردش کرنے کے بعد زمین کی کشش ثقل سے مدد لے کر بنو کی جانب اپنا سفر طے کرے گا. بنوکے قریب پہنچ کر اس کی رفتار کو آہستہ کیا جائے گا جس میں مزید ایک سال لگ جائے گا. مطلوبہ رفتار پر پہنچنے کے بعد اوسیرس صرف 5 سیکنڈ‌کیلئے بنو کی سطح کو چھوئے گا اور اس کا سیمپل حاصل کرنے کے بعد واپسی کا سفر شروع کرے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں