11

پاکستان میں فیس بک، گوگل اور ڈیلی موشن پر پابندی لگنے کا امکان، بڑی وجہ بھی سامنے آ گئی

پاکستان میں فیس بک، گوگل اور ڈیلی موشن پر پابندی لگنے کا امکان، بڑی وجہ بھی سامنے آ گئی

اسلام آباد ( پرائم نیوز) ٹیکس کی عدم ادائیگی پر پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک، دنیا کی سب سے بڑی سرچ سائٹ گوگل اور ویڈیو سائٹ ڈیلی موشن پر پابندی عائد ہونے کا خدشہ ہے. پنجاب ریونیو اتھارٹی انٹرنیٹ پر موجود سائٹس کو اپنے ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کام کر رہی ہے جس کیلئے حال ہی میں‌ ریونیو اتھارٹی نے لاہور میں رجسٹریشن کیلئے گوگل، فیس بک اور ڈیلی موشن کو نوٹس جاری کیے ہیں جبکہ ان نوٹسزمیں پنجاب سے حاصل شدہ ریونیو پر ٹیکس کی ادائیگی کی بھی ہدایت کی ہے.

اس نوٹس پر فیس بک نے ایک تحریری پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی میں ہم پر رجسٹریشن کا قانون عائد نہیں ہوتا کیونکہ ہم ٹیکس کی ادائیگی کے اہل نہیں ہوتے. فیس بک کا مزید کہنا ہے کہ ہم آئرلینڈ سے ملٹی نیشنل کارپوریشن کے حوالے سے آن لائن سروسز فراہم کر رہے ہیں. دوسرے طرف پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ایکٹ کے تحت اشتہار دینے والے افراد یا بزنس مین جو فیس بک کے ذریعے اشتہار چلاتے ہیں وہ سیلز ٹیکس کے ذمہ دار ہوں‌ گے.

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ایکٹ کے ایک سیکشن کے تحت وہ قابل ٹیکس سروسز جو بیرون ملکوں سے موصول ہو کر پنجاب میں استعمال یا ختم ہو جاتی ہیں اسی سروس کے وصول کنندہ حکومت کو ٹیکس اداکرنے کے ذمہ دار ہوں‌گے. پی آر اے فیس بک کے ذریعے اشتہار چلانے والوں پر ٹیکس لاگوکرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر ان اشتہار دینے والوں کا فیس بک کی مدد کے بغیر پتا چلانا بھی ناممکن ہے.

فیس بک ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی آر اے کو کسی قسم کی مدد مہیا کرنے کا سوچ بھی نہیں رہی کیونکہ فیس بک اشتہار دینے والے افراد کی معلومات یا فہرست پی آر اے کو مہیا کر کے اپنے پلیٹ فارم پر چلنے والے اشتہارات کی تخمینے کو بڑھانا نہیں چاہتی. کیونکہ ایسا کرنے سے سائٹ پر اشتہار چلانے پر کم خرچہ آئے گا. اس ضمن میں پی آر اے اسی کمپنیوں کیلئے رجسٹریشن کو لازم قرار دے سکتی ہے.جس میں فیس بک، گوگل اور ڈیلی موشن شامل ہیں. اس کے بعد اس قسم کی کمپنیوں کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جا سکے گی. پی آر اے ٹیکس کی عدم ادائیگی پرپاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رجوع کرکے ایسی کمپنیوں اور سائٹس پر پابندی عائد کر سکتی ہے. پی آر کے نے کہا ہے کہ ایسی سائٹس کو ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں لانے کیلئے پی آر اے کا لیگل ونگ تمام ممکنہ آپشنز پر نظر رکھ رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں