7

قندیل بلوچ کے بعد ایک اور شخصیت کا غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا

قندیل بلوچ کے بعد ایک اور شخصیت کا غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کرنا اب ایک عام بات ہو گئی ہے. چند روز قبل قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کر ڈالا اور اب ایک برطانوی خاتون کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا.

تفصیلات کے مطابق برطانوی خاتون سامعہ کو پاکستان بلا کر قتل کر ڈالا. برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کی سامعہ شاہد کے شوہر مختار کاظم نے دعویٰ‌ کیا کہ اس کی بیوی کو دھوکے سے پاکستان بلوا کر مرضی کی شادی کرنے پرغیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے.

بریڈ فوڈ کی رہائشی 28 سالہ پاکستانی نژاد سامعہ شاہد بیوٹی تھراپسٹ تھی جو کہ جنوبی پنجاب منگلہ ڈیم کے قریب واقع گاؤں پندوری میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے آئی تھی جہاں اسے قتل کر دیا گیا. سامعہ کے شوہر نے کہا ہے کہ سامعہ کو رشتہ دار خاتون کے انتقال کی خبر دے کر پاکستان بلوایا گیا تھا. ان کا کہنا ہے کہ سامعہ 14 جولائی کو اسلام آباد پہنچی جس کے بعد مجھے سامعہ کے انتقال کی خبر مل گئی.

ان کا کہنا ہے کہ سامعہ کے گھر والوں نے بتایا ہے کہ سامعہ کا انتقال دل کر دورہ پڑنے سے ہوا ہے. اور سامعہ کے اہل خانہ نے غیر خاندان ہونے کی وجہ سے بڑی مشکل سے مجھے سامعہ کیلئے قبول کیا تھا. مجھے خدشہ ہے کہ سامعہ کواس کے گھر والوں نے ہی قتل کیا ہے. سامعہ کے شوہر کا مزید کہنا ہے کہ سامعہ پاکستان میں مقیم اپنی ایک کزن سے شادی کر چکی تھی مگر ستمبر 2014ء کو مجھ سے شادی کرنے سے پہلے سامعہ نےاپنے سابقہ شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی تھی.

دوسرے طرف سامعہ کے والد نے اس کے شوہر کے دعووں کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے سب دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں.ان کا کہنا ہے کہ میری بیٹی پر کسی قسم کا کوئی بھی دباؤ نہیں تھا اور وہ خوشی سے اپنی زندگی بسر کر رہی تھی.

اس واقعہ کے بعد برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے نواز شریف کو خط لکھا ہے کہ سامعہ کی قبر کشائی کر کے غیر جانبدارپوسٹمارٹم کروایا جائے انہوں نے اپنے خط میں وزیراعظم نواز شریف سے اس کیس میں مداخلت کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے.

اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سامعہ کے جسم کے نمونے فرانزک ٹیسٹ کیلئے لاہور بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ ضلع جہلم کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر نے کہا ہے کہ سامعہ کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا، سامعہ کے جسم ہر کوئی زخم یا تشدد کے نشانات نہیں تھے جس کے بعد اسے اس کے گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں