2

14 سالہ حاملہ لڑکی کے ساتھ انتہائی طالمانہ سلوک کیا گیا، جان کر کانپ اٹھیں گے

14 سالہ حاملہ لڑکی کے ساتھ انتہائی طالمانہ سلوک کیا گیا، جان کر کانپ اٹھیں گے

بدھ کو انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے افغان حکومت سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان میں لڑکیوں‌ کی کم عمری میں شادی کی روک تھام کیلئے قانون نافذ کیا جائے. یہ مطالبہ 14 سالہ حاملہ لڑکی زہرہ کے والدین کے دیے گئے بیان کے بعد سامنے آیا.بیان میں ان کا کہنا تھا کہ زہرہ کو اس کے سسرال والوں نے تشدد کرنے کے بعد آگ لگا دی. افغانستان کے وسطیٰ صوبے گور میں پیش آنے والے اس واقعہ کے باعث زہرہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی. ہلاک ہونے والی زہرہ کے شوہر اور سسرال کا کہنا ہے کہ زہرہ نے خود کشی کی ہے.

تفصیلات کے مطابق زہرہ 4 ماہ سے حاملہ تھی. خاندانوں کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑوں‌ کو ختم کرنے کیلئے زہرہ کی کم عمری میں شادی کردی گئی. تاہم افغانستان کے لوگ اس واقعے سے بری طرح متاثر ہیں. پچھلے ہفتے زہرہ کی ہلاکت کے نتیجے میں پورے افغانستان کو دھچکا لگا. اب وہاں انسانیت کے حقوق کیلئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ افغان میں کم عمری میں شادی کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگا دی جائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں