5

ترکی میں کئی برس قدیم منسوخ کردہ سزا کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ، طیب ایرڈوآن کا زبردست اعلان

ترکی میں کئی برس قدیم منسوخ کردہ سزا کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ، طیب ایرڈوآن کا زبردست اعلان

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ملک کی پارلیمان سزائے موت کو متعارف کروایا جائے. ان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں مجرم قرار دیے جانے والوں کوبغیر کسی دیر کے سزائے موت دی جانی چاہیئے. غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ترک صدر نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ بغاوت میں شامل ہونے والے عناصرکی سزائے موت کے متعلق تمام سیاسی جماعتوں سے گفتگو کی جا ئے گی.

اس سے پہلے انہوں نے استنبول میں اپنی رہائش گاہ پر جمع ہونے والے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا جس میں انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا کہ بغاوت میں شامل ہونے والے عناصر کو سزائے موت دی جائے. اس مطالبے پر صدر نے کہا کہ ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے. اس حوالے سے اپوزیشن سیایسی جماعتوں سے بات کی جائے گی.

یاد رہے کہ ترکی نے 2004ء میں یورپی یونین میں شامل ہونے کیلئے اپنی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے سزائے موت کا قانون ختم کر دیا تھا. جبکہ 1984ء کے بعد ترکی میں سزائے موت کا کوئی واقعہ ابھی تک کسی ریکارڈ میں نہیں‌دیکھا گیا.

ترک صدر ایردوآن نے اپنے حامیوں سے درخواست کی کہ وہ فوج دشمنی کی سازش کے خلاف اگلے جمعے تک سڑکوں اور میدانوں میں احتجاج جاری رکھیں. انہوں نے کہا کہ بغاوت کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے.اس لئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے. اب تک ترکی میں بغاوت پر کنٹرول کرنے کے بعد 2700 ججوں کو معزول کر دیا گیا ہے جن میں فوج کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں