حلیمہ کے قاتل رضوان نے ایک نیا انکشاف کھڑا کر دیا

حلیمہ کے قاتل رضوان کی گرفتاری کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب قتل کی اصل وجہ سامنے آ جائے گی مگر معاملہ اس کے برعکس نکلا اور مزید الجھ کررہ گیا. ملزمان پولیس کو اعترافی بیان دینے کے بعد عدالت میں جا کر اپنے دئیے گئے بیان سے مکرگیا. عدالت میں پہنچنے کے بعد ملزم کا بیان یہ تھا کہ حلیمہ کا قتل اُس نے نہیں بلکہ اُس کے سو تیلے بیٹے انصر نے کیا ہے.

دوسری جانب تفتیشی افسر سب انسپیکٹر نصراللہ نے ملزم کے ریمانڈ کے ساتھ اعترافی بیان کی درخواست جمع کروا کرغلطی کا احساس ہونے پر وکلاء کی منت کر کےعدالت سے ملزم کے 3 دن کے ریمانڈ کے ساتھ ہسپتال بھیجنے کی بھی در خواست کی. وکلاء کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے عدالت نے بھی افسر کی ایک نہ سنی.

عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ تفتیشی افسر کو 14 جون تک چلان جمع کروانے کا حکم دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں