12

تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کاوزیر دفاع کی طرف سے بھیجا گیا معافی نامہ مسترد کر دینا

وزیردفاع خواجہ آصف نے اجلاس کے دوران شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا تھا اور پھر اسپیکر ایاز صادق کو معافی مانگنے کے لئے تحریری نامہ بھی جمع کرا دیا لیکن شیریں مزاری نے نام لے کر معافی نہ مانگنے پر خواجہ آصف کی معافی قبول نہ کی.

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز کے زیر صدارت میں تھا پچھلےروز اُس دوران وزیر دفاع خواجہ آآصف کی وجہ سے پیش آنے والی ہنگامی آرائی پر بات ہوئی. اس مو قعہ پر خواجہ آصف کی طرف سے تحریری نامہ جمع کرایا گیا جو اسپیکر ایاز نے ایوان میں پڑھ کر سنایا اس کے بعد وزیر دفاع نے فلور پر کھڑے ہو کر اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے کہے پر افسوس ہے، میری طرف سےرد عمل فطری تھا، مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیئے تھا اور میں معافی کا طلبگار ہوں کیونکہ میرا مقصد ایوان کا ماحول خراب کر نا نہیں تھا.

شیریں مزاری نےخواجہ آصف کی معافی کو قبول نہ کیا اور کہا کہ خواجہ آصف نے میرا نام لے کر جملے کسے اس لئے وہ ایوان کے فلور پربھی میرا نام لےکر ہی معافی مانگیں جس پر وزیر دفاع نے کہا کہ مجھے میری پارٹی نے نہیں کہا میں نے خود معافی مانگی ہے، اگر میں نے کسی کا نام لیا ہو تا تو ایک بار نہیں سو بار معافی مانگتا، میری تقریر نکال کر دیکھیں میں نے کسی کا نام نہیں لیاجبکہ اسپیکر ایاز کو لکھے گئے خط میں غیر معافی مانگی. اسحاق ڈار نے خواجہ آصف کو کہا کہ شیریں مزاری کا نام لے کر معافی مانگ لیں لیکن خواجہ صاحب نے اسحاق کی بات کو نظر انداز کر دیا.

خواجہ آصف کی طرف سے شیریں مزاری کا نام نہ لے کر معافی مانگنے پر احتحاج کیا گیا حالانکہ اس مو قع پر ایاز صادق نے کہا تھا کہ ہمیں معاملہ یہیں ختم کر کے آگے بڑھنا چاہیئے اور دل بڑا کر کے معاف کر دینا چا ہیئے جب کہ خواجہ آصف کی طرف سے غیر مشروط معافی ستائش کے قابل ہے.

یہ بات واضح ہے کہ پچھلے دنوں اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے اپنی بات کے دوران مداخلت کر نے پر شیریں مزاری کو ٹریکٹر اور ٹرالی کہا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں